پارٹنرز
1۔ پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز(PIPS) ایک خودمختار تحقیقی ادارہ ہے جس کی پالیسی 'علم برائے امن‘ہے۔ادارہ کی سرگرمیوں کا دائرہ کار تحقیق، تجزیے اور پالیسی امور کے حوالے سے آگہی پیدا کرنے سے لے کرتجاویز پر عمل درآمد تک پھیلا ہوا ہے۔ PIPS چھ بنیادی موضوعات پر کام کر رہا ہے جن میں انتہاپسندی، سیاسی تشدد اور دہشت گردی؛ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق اور جمہوریت؛ علاقائی اور معاشی تزویراتی حکمت عملی؛تنازعات اور تعمیر و ترقی اور بین الاقوامی تعلقات شامل ہیں ۔ ادارہ ان موضوعات پر مختلف تحقیقی مقالے اور کتب شائع کر چکا ہے۔ ایک سہ ماہی تحقیقی مجلہ 'Conflict and Peace Studiesبھی شائع کر رہا ہے ، اس کے علاوہ مقامی اور علاقائی سطح پر تسلسل کے ساتھ سکیورٹی تجزیات کرنے کے حوالے سے بھی معروف ہے۔ مزید تفصیلات کے لئے وزٹ کیجئے؛ www.san-pips.com
2۔ دی کلیدگروپ ( The Killed Group) افغانستان کا ایک خودمختار میڈیا گروپ ہے جس کے زیر اہتمام ہرات، مزار شریف، غزنی، جلال آباد، قندھار،خوست اور کابل میں آٹھ ریڈیو چینلوں کی نشریات جاری ہیں اور دو قومی ہفت روزہ جرائد (مرسل اور کلید) شائع کیے جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ افغانستان بھر میں 28کمیونٹی ریڈیو چینل بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہےں۔
اس گروپ کی ادارتی پالیسی 'افغانستان کی ترقی اور افغانوں کی ملکیت‘ کے تصور پر قائم ہے اوریہ 'عوام کے حقِ آگاہی‘ کے بنیادی اصول پر یقین رکھتا ہے۔ کلید گروپ ، ڈویلپمنٹ آف ہیومینٹیرین سروسز فار افغانستان(Development of Humanitarian Services for Aghanistan, DHSA) کا ذیلی ادارہ ہے۔ تفصیلات کے لئے ویب سائٹwww.tkg.af وزٹ کیجئے۔
3۔ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (International Media Support) ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو مسلح تنازعات، عدم تحفظ اور سیاسی مسائل سے دوچار ممالک میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ کام کرتی ہے۔ آئی ایم ایس دنیا بھر میں 40سے زائد ممالک میں پیشہ ورانہ امور میں بہتری کے لیے معاونت فراہم کر رہی ہے اور اس نے اس امر کو یقینی بنانے کی جانب اپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے کہ ذرائع ابلاغ اور صحافی نامساعد حالات میں بھی اپنے فرائض پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دے سکیں۔ مزید تفصیلات کے لئے آپ ویب سائٹ www.i-m-s.dk ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
مشاورتی بورڈ
اس منصوبہ کی نگرانی کے لئے افغانستان اور پاکستان کے صحافیوں پر مشتمل ایک مشاورتی بورڈ تشکیل دیا گیا، جس کے ارکان کی تعداد 14ہے۔
پاکستانی مشاورتی بورڈ کے اراکین
1۔عدنان رحمت غیر سرکاری تنظیم انٹرمیڈیا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ 1990ءسے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے ساتھ منسلک ہیں اور بنیادی طور پر ایک صحافی اور میڈیا ڈویلپمنٹ کے ماہر ہیں۔
2۔شہزادہ ذوالفقارکوئٹہ میں مقیم ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ کچھ عرصہ روزنامہ مسلم اسلام آباداور بعدازاں 16برس تک ڈیلی نیشن سے وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ وہ نیوزلائن کراچی اور سماءٹی وی کے بیوروچیف کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ وہ آج کل پاکستان ٹوڈے ، ہیرلڈ کراچی اور اے ایف پی کے ساتھ منسلک ہیں۔
3۔عامر ہاشم خاکوانی نے سترہ برس بطور صحافی خدمات انجام دی ہیں۔ آج کل وہ اردو رونامہ ایکسپریس (لاہور) کے شعبہ میگزین کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ وہ ایکسپریس میں باقاعدگی سے کالم بھی لکھ رہے ہیں۔
4۔عاصمہ شیرازی پاکستان کے ایک اہم نیوز چینل سماءکی میزبان، پروڈیوسر اور نمائندہ خصوصی ہیں۔ ان کا پیشہ ورانہ کیریئر دس برسوںپر محیط ہے اور اس عرصہ کے دوران وہ ذرائع ابلاغ کے نمایاں اداروں کے ساتھ وابستہ رہی ہیں۔
5۔حسن خان پشتو کے نیوز چینل خیبر نیوز سے بطور ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئر منسلک ہیں ۔ وہ پاکستان اور افغانستان کے پختون علاقوں میں جاری دہشت گردی اور سکیورٹی وامن و امان کی صورتحال جیسے موضوعات کے ماہر بھی ہیں ۔
6۔شفقت اللہ ڈھلوں 1990ءمیں صحافت سے وابستہ ہوئے۔ وہ ڈویلپمنٹ سیکٹر اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔وہ 2003ءسے ریڈیو نیٹ ورک مست ایف ایم 103کے ساتھ بطور ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز منسلک ہیں اور جنوری2008ءسے سیاسی ہفت روزہ جریدے 'ہم شہری‘کے چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
7۔سرل المیدا روزنامہ ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹر، کالم نگار اور رپورٹر ہیں۔ وہ قومی سیاست وسکیورٹی پالیسی کے ماہر ہیں۔
افغان مشاورتی بورڈ کے اراکین؛
1۔ حسینہ صافی افغان ویمنز ایجوکیشنل سینٹر (AWEC) کی ڈائریکٹر ہیں ۔ ان کی تنظیم افغان خواتین کے حقوق، تعلیم اور اس حوالے سے شعور و آگہی کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
2۔ سالم رحیمی صبا ٹی وی او ریڈیو نوا نیٹ ورک کے ڈائریکٹر اور ماہرمعاشیات ہیں ۔ وہ اپنے کیریئر کے دوران افغانستان کے نائب وزیر خزانہ (2002-2004ئ) سمیت اہم سرکاری عہدوں پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
3۔ فہیم دشتی 2002ءمیں افغانستان سے طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کابل سے شائع ہونے والے پہلے ہفت روزہ انگریزی جریدے "کابل ویکلی" کے ایڈیٹر اِن چیف ہیں۔
4۔ حسین یاسا افغان گروپ آف نیوز پیپرز کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔ اس گروپ کے زیرِاہتمام ڈیلی آئوٹ لک (انگریزی) اور ڈیلی افغانستان (دری/پشتو) شائع کیے جا رہے ہیں۔
5۔ دانش کروخیل پژواک افغان نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر ہیں۔ پژواک عالمی شہرت یافتہ نیوز سروس ہے۔
6۔ استاد حبیب اللہ رفیع افغان اکادمی آف ماڈرن سائنسز کے رکن ہیں اور ان کا شمار افغانستان کے اہم سیاسی تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے۔
7۔ ڈاکٹر محمد اکبر اکبر میڈیا سپورٹ پارٹنرشپ، افغانستان ( MSPA) کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ غیر سرکاری تنظیم افغان میڈیا کی ترقی کے لیے معاونت فراہم کرتی ہے۔